Forum Pakistan
New User? Register | Search | Memberlist | Log in
Forum Pakistan - Pakistani Forums
Pakistani forum to discuss Pakistani Media, Siasat, Politics Talk Shows, Khaber Akhbar, Khel, Cricket, Film, Dramas, Songs, Videos, Shairy, Shayari, Pyar Mohabbat ki Kahani, Tourism, Hotels, Fashion, Property, Naukary Gupshup and more.
Watch TV OnlineLive RadioListen QuranAkhbarFree SMS PakistanResults OnlineUrdu EditorLollywoodLive Cricket Score
Government DepartmentsKSE Live RatesUseful LinksJobsOnline GamesCheck EmailPromote us
GEO News LiveGEO NewsDawn News Live TVExpress News

ForumPakistan.com

Bookmark site!


Hazrat Lut(a.s) ki qum ki tabahi aur asbab


Bookmark and Share
 
Reply to topic    Forum Pakistan - Pakistani Forums Home » Islam Forum
Hazrat Lut(a.s) ki qum ki tabahi aur asbab
Author Message
Imama Nadeem
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 10 Jun 2016
Posts: 1562

Hazrat Lut(a.s) ki qum ki tabahi aur asbab
Hazrat Lut(a.s) ki qum ki tabahi aur asbab
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی ہلاکت
اور اس کے اسباب :

آئیے آج اپنے دوستوں کو شہر سدوم کی ہلاکت کے بارے بتاتے ہیں۔۔ یہ شہر ۔ بحیرہ مردار Dead Sea کے قریب واقع تھا۔ اس شہر کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے اللہ کریم نے حضرت لوط علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ ۔ ۔

شہر سدوم حضرت لوط علیہ السلام کا شہر ہے ۔ حضرت لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارخ، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ یہ لوگ عراق میں شہر ''بابل'' کے باشندہ تھے پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے ہجرت کر کے ''فلسطین'' تشریف لے گئے اور حضرت لوط علیہ السلام ملک شام کے ایک شہر ''اُردن'' میں مقیم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرما کر ''سدوم'' والوں کی ہدایت کے لئے بھیج دیا۔ ۔ ۔
شہر سدوم کی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قسم قسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔ شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اکثر بہت سے لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کرتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھانا پڑتا تھا۔ اس لئے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کبیدہ خاطر اور تنگ ہو چکے تھے۔ مگر مہمانوں کو روکنے اور بھگانے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا۔ اور ان لوگوں سے کہنے لگا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو ۔ ۔ ۔ چنانچہ سب سے پہلے ابلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا۔ اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کرائی اس طرح یہ فعلِ بد ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس برے کام کے یہ لوگ اس قدر عادی بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے۔ ( روح البیان،ج۳،ص۱۹۷،پ۸،الاعراف: ۸۴)

چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے اس طرح وعظ فرمایا کہ :-
(ترجمہ قرآن): اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔ (پ8،الاعراف:80،81)
حضرت لوط علیہ السلام کے اس اصلاحی اور مصلحانہ وعظ کو سن کر ان کی قوم نے نہایت بے باکی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کہا۔
ترجمہ قرآن :- اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں ۔
(پ8،الاعراف:82)
جب قوم لوط کی سرکشی اور بدفعلی قابل ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام چند فرشتوں کو ہمراہ لے کر آسمان سے اتر پڑے۔ پھر یہ فرشتے مہمان بن کر حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور یہ سب فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے ۔۔ ان مہمانوں کے حسن و جمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کر کے حضرت لوط علیہ السلام بہت فکرمند ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قوم کے بدفعلوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے ارادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے نہایت دل سوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھایا اور اس برے کام سے منع کرنا شروع کر دیا۔ مگر یہ بدفعل اور سرکش قوم اپنے بے ہودہ جواب اور برے اقدام سے باز نہ آئی۔ تو آپ اپنی تنہائی اور مہمانوں کے سامنے رسوائی سے تنگ دل ہوکر غمگین و رنجیدہ ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی آپ بالکل کوئی فکر نہ کریں۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان بدکاروں پر عذاب لے کر اترے ہیں۔ لہٰذا آپ مومنین اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے قبل ہی اس بستی سے دور نکل جائیں اور خبردار کوئی شخص پیچھے مڑ کر اس بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گئیں ۔ ۔ ۔
پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے سنگ باری ہوئی کہ قوم لوط کے تمام لوگ مر گئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں ۔ ۔ ۔ عین اس وقت جب کہ یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا ۔ ۔ ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی ایک بیوی جس کا نام ''واعلہ'' تھا جو درحقیقت منافقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور یہ کہا کہ ''ہائے رے میری قوم''یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی۔ چنانچہ قرآن مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :-
ترجمہ : تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے اُن پر ایک مینہ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔ ۔ ۔
(پ8،الاعراف:83،84)

جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے۔ اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔ ۔ ۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۹۱،پ۸،الاعراف:۸۴)

درس ہدایت : اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ لواطت کس قدر شدید اور ہولناک گناہ کبیرہ ہے کہ اس جرم میں قوم لوط کی بستیاں الٹ پلٹ کر دی گئیں اور مجرمین پتھراؤ کے عذاب سے مر کر دنیا سے نیست و نابود ہو گئے ۔ ۔ ۔
منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ ناپسند ہے؟ تو ابلیس نے کہا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یہ گناہ ناپسند ہے کہ مرد، مرد سے بدفعلی کرے اور عورت، عورت سے اپنی خواہش پوری کرے۔ اور حدیث میں ہے کہ عورت کا اپنی شرمگاہ کو دوسری عورت کی شرمگاہ سے رگڑنا یہ ان دونوں کی زنا کاری ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔
( روح البیان،ج۳،ص۱۹۸،پ۸، الاعراف:۸۴)
(عجائب القرآن سے اقتباس)

اللہ تعالی ہمیں اپنے غضب سے بچائے اور ہمیں جملہ گناہوں سے محفوظ رکھے۔ اے اللہ کریم ہم تجھ سے تیرا فضل طلب کرتے ہیں ۔ہمیں اپنی ناراضگی سے مامون فرما آمین ۔ ۔ ۔

Tue Mar 28, 2017 12:45 pm View user's profile Send private message
Display posts from previous:    
Reply to topic    Forum Pakistan - Pakistani Forums Home » Islam Forum All times are GMT + 5 Hours
Page 1 of 1

 
Gupshup Forum: Urdu ForumIslam ForumPakistan Army ForumAap Ka SheharNaukaryPakistani Visa
Desi Sports and News: Live CricketSports ForumAkhbar OnlinePakistan EventsWorld News Discussion
Entertainment Media: PTV ForumGEO ForumLollywood ForumBollywood OnlineHollywood ForumDesi Radio
Desi Masala Forums: Gupshup Chit ChatComputer GamesMusic ForumDrama ForumsGhazal ForumDesi FashionDesi Food
Official Forums (Government Department): Dak Khana ChatPolice ForumWapda OnlinePTCL ForumUfone ForumRailway ForumSehat Chit ChatTaleem OnlineTax Forum PKZameen ForumAdalat Forum


Pure Pakistani forum to express your views, thoughts with complete freedom. Archives 1 2

Copyright © ForumPakistan.com.pk 2017 All rights reserved.

Contact Us | Advertise | Report Abuse | FP Team | Disclaimer