Forum Pakistan
New User? Register | Search | Memberlist | Log in
Forum Pakistan - Pakistani Forums
Pakistani forum to discuss Pakistani Media, Siasat, Politics Talk Shows, Khaber Akhbar, Khel, Cricket, Film, Dramas, Songs, Videos, Shairy, Shayari, Pyar Mohabbat ki Kahani, Tourism, Hotels, Fashion, Property, Naukary Gupshup and more.
Watch TV OnlineLive RadioListen QuranAkhbarFree SMS PakistanResults OnlineUrdu EditorLollywoodLive Cricket Score
Government DepartmentsKSE Live RatesUseful LinksJobsOnline GamesCheck EmailPromote us
GEO News LiveGEO NewsDawn News Live TVExpress News

ForumPakistan.com

Bookmark site!


General Musharraf: Transformation from Human to Dictator


Bookmark and Share
 
Reply to topic    Forum Pakistan - Pakistani Forums Home » Pakistani News and Events
General Musharraf: Transformation from Human to Dictator
Author Message
askari.z55
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007
Posts: 1730
Location: UAE

General Musharraf: Transformation from Human to Dictator
پاکستان کے موجودہ فوجی صدر جنہوں نے 12 اکتوبر 1999ء کو وزیر اعظم نواز شریف کو معزول کر دیا اور پھر 20 جون 2001ء کو ایک صدارتی ریفرینڈم کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا، فوجی صدر کی بجائے اب سویلین صدر کے روپ میں عوام کے سامنے ہوں گے۔
جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کے والدین ایک سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی والدہ زہرہ مشرف انگریزی میں گریجوایٹ ہیں۔ انہوں نے ایک بین الاقو امی تنظیم "انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن" کے لیے کام کیا اور 1968 میں رٹائر ہوئیں۔ جنرل پرویز مشرف کے والد سید مشرف الدین وزارت خارجہ میں سیکشن آفیسر تھے۔ انہوں نے کئی سال انقرہ، ترکی میں پاکستانی سفارتخانے کے لیے کام کیا۔ 1977ء میں جب پرویز مشرف کے والد جکارتہ میں تعینات تھے تو انہیں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بدعنوانی کی وجہ سے معطل کر دیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنا لڑکپن اور جوانی کا کچھ حصہ ترکی میں گزارا ہے اور وہ بڑی روانی سے ترکی زبان بول سکتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے فوراََ بعد ہونے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کی مصطفٰی کمال اتا ترک ان کے آئیڈیل ہیں۔
جنرل پرویز مشرف نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس ہائی سکول، کراچی سے حاصل کی اور پھر فارمین کرسچین کالج، لاہور سے 1958 میں گریجوایشن کی۔ 1961 میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شامل ہوئے اور وہاں فوجی تربیت حاصل کی۔ یہ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس کالج راولپنڈی میں بھی زیر تربیت رہے۔
جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ ہونے والی دونوں جنگوں یعنی ستمبر 1965 اور 1971 میں بھرپور حصہ لیا اور کئی فوجی اعزازات حاصل کیے۔
جب 12 اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیا الدین کو مقرر کرنا چاہا۔ اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر ایک سرکاری دور پر گئے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارے پر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلی افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے اقتدار کا تختہ الٹ کر ان کو معزول کر دیا اور طیارہ سازش کیس تیار کیا گیا۔۔ اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔
20 مئی 2000 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002 تک جنرل الیکشن کروائیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002 میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا اور اسکا بائیکاٹ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے بہت سے عہدیداروں کو بھی ہٹایا جن میں سپریم کورٹ کےجج حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔
اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ق نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یاد رہے کہ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست حامی ہیں۔ دسمبر 2003 میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے۔ لیکن وہ اپنے اس وعدے پر پورا نہیں اترے جن کا انہوں نے پوری قوم کے سامنے وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترھویں ترمیم منظور کر والی جس کی روح سے انہیں با وردی پاکستان کے صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔
مارچ، 2007ء، جمعہ کے دن، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو صدر جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت معطل کر کے ان خلاف کے سپریم کورٹ میں ریفرنس داخل کر دیا۔ اس سے پہلے چیف جسٹس کو صدر نے بلا کر ان سے استعفی طلب کیا جس پر انہوں نے انکار کر دیا۔ان کی اصلی مدت 2013ء میں ختم ہونا تھی ۔ ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی چیف جسٹس کو "معطل" کیا گیا ہو۔ بار کونسلوں نے اس کے خلاف ھڑتال کا اعلان کیا۔ مشہور وکلاء اور ججوں سمیت اکثر اہل علم کے خیال میں یہ اقدام فوجی آمر کی طرف سےکھلم کھلا ڈھٹائی پر مبنی اور آئین کی سراسر خلاف ورزی تھا۔
9 مارچ کو جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس کو جنرل ہیڈ کوارٹرز بلا کر اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ رائٹرز کی تصویر کے مطابق اس موقع پر 63 سالہ حاضر سروس "آرمی چیف" پرویز مشرف، جنرل کی وردی میں ملبوس تھے۔ اطلاعات کے مطابق مشرف اس ملاقات میں چیف جٹسس سے کسی قسم کی مفاہمت (سودا بازی) کی کوشش میں تھے۔ اس دوران چیف جسٹس پر استعفٰی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا مگر چیف جسٹس افتخار چودھری اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس کو یہاں چار گھنٹے کے لیے مقید کر لیا گیا اور بعد میں انہیں پولیس نے سپریم کورٹ جانے سے روک دیا۔ اس کے بعد انہیں عملی طور پر اپنے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
چیف جسٹس افتخار چودھری کو معطل کرنے کے بعد صدر پرویز مشرف کے خلاف وکلاء کا احتجاج زور پکڑتا گیا۔ یوں اس پورے عمل نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ جس میں وکلا کے ساتھ ساتھ حزبِ اختلاف کی جماعتیں بھی شامل ہوتی گئیں۔ لاہور میں چیف جسٹس کو وکلاء سے خطاب کے سلسلہ میں زبردست پزیرائی ہوئی، جس سے حکومت وقت بوکھلا گئی۔
12 مئی کوچیف جسٹس نے کراچی میں وکلاء سے خطاب کرنا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے پاس ایک راستہ یہ تھا کہ ملک میں ہنگامی حالت لگا کر مظاہروں پر پابندی لگا دیں۔ اس نے اپنی حلیف سیاسی جماعتوں کو جوابی مظاہرے کر کے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دی تاکہ حزبِ اختلاف کو "سبق" سکھا دیا جائے۔ کراچی میں سرکاری حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ جس کی سندھ میں صوبائی حکومت تھی، کو یہ کام سونپا گیا۔ متحدہ نے 12 مئی کو ہی اپنا جلسے کا اعلان کر دیا۔ اور دوسری طرف حکومتی جماعت مسلم لیگ ق نے اسلام آباد میں ایک بڑا جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا۔
11 مئی کو ہی حالات کشیدہ ہوگئے۔ اور اس رات مسلم لیگ نواز کا ایک کارکن شہید کر دیا گیا۔ انتظامیہ نے راتوں رات شہر کی تمام بڑی شاہراہوں پر ٹرک کھڑے کر کے انھیں بند کر دیا۔ صبح تک سارا شہر مفلوج ہو چکا تھا۔ اس کام کی نگرانی سندھ کے گورنر عشرت العباد نے کی (جن کا تعلق متحدہ سے ہے)۔
پولیس کو اسلحہ نہیں دیا گیا، اور انھیں شرپسندوں کو روکنے سے منع کر دیا گیا۔ متحدہ کے اسلحہ سے لیس خاص غنڈہ ٹولے 12 مئی کو دوسری سیاسی جماعتوں کے ان جلوسوں اور قافلوں پر حملہ آور ہوتے رہے، جو چیف جسٹس کے استقبال کے لیے نکالے جا رہے تھے۔ ان حملوں میں 38 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔متحدہ کا اپنا جلسہ علیحدہ جگہ ہوا، جہاں اس کے جلاوطن رہنما الطاف حسین، جو لندن سے متحدہ کے معاملات چلاتے ہیں،نے لندن سے ٹیلیفون پر متحدہ کے کارکنوں سے خطاب کیا۔ متحدہ کے غنڈہ ٹولے عام کارکن نہیں تھے، بلکہ متحدہ کی قیادت نے یہ غنڈے اس کام کے ماہر کارکنوں پر مشتمل ٹولیاں تشکیل دی تھی۔ نجی ٹی وی آج کے دفتر پر متحدہ کے غنڈے چھ گھنٹے تک لگاتار فائرنگ کرتے رہے۔تاہم پھر بھی نجی ٹی وی نے دہشت گردی اور قتل و غارت کو براہ راست سارے ملک میں نشر کیا۔
چیف جسٹس افتخار چودھری کراچی ائیرپورٹ پر محصور ہو کر رہ گئے۔ آخر کار شام کو وہ اپنے خطاب کا ارادہ ترک کر کے واپس اسلام آباد لوٹ گئے
جمعہ 20 جولائی کو 41 دن کی سماعت کے بعد منصف خلیل الرحمن رمدے نے شام چار بجے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے جناب افتخار چودھری کو اپنے عہدے پر بجال کر دیا،۔ متفقہ فیصلہ میں عدالت نے صدر کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ ریفرنس کو کلعدم قرار دینے کا فیصلہ 10 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے دیا گیا
10 ستمبر 2007 كو جلاوطن مسلم ليگی راهنما مياں محمد نواز شريف سعودی عرب پاکستان آئے- مشرف حکومت نے ان کے کتنی هی دیر جہاز ميں روکے رکها اور مبینه طور پر دهوکے سے ایک دفعه پهر جلا وطن کر کے سعودی عرب بهیج دیا ـ سیاسی پروہتوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ـیورپین یونین نے بهی نواز شریف کے دفاع کے حق کے متعلق بیان دیاـ
3 نومبر 2007ء کو پاکستان میں برسر اقتدارجنرل پرویز مشرف نے "ہنگامی حالت" کا اعلان کرتے ہوئے آئین کو معطل کر دیا۔ یہ اعلان چیف آف دی آرمی سٹاف کی جانب سے "عبوری آئینی حکم" کے عنوان سے جاری کیا گیا نہ کہ صدر پاکستان کے دفتر سے۔ اس وجہ سے مبصرین نے اس ہنگامی حالت کو دراصل martial law قرار دیا، اگرچہ مشرف نے اس لفظ کو استعمال کرنے سے گریز کیا۔ خیال رہے کہ پرویز مشرف صدر کے عہدے پر بھی قابض تھے اور وفاقی اور صوبائی وزرا پہلے ہی مشرف کے تابع اور حمایتی تھے ۔ البتہ اکتوبر 2007ء میں مشرف کے صدارتی انتخاب پر عدالت اعظمی چند روز میں فیصلہ سنانے والی تھی جس کے تحت مشرف کو صدارتی عہدہ 15 تومبر 2007ء کے بعد خالی کرنا پڑ سکتا تھا۔
3 نومبر کو پولیس اور فوج کی بڑی تعداد نے عدالت عظمٰی کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔ اسی دوران جناب افتخار چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمی کے سات رکنی محکمہ نے عبوری حکم میں ہنگامی حالت کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا، اور فوج اور انتظامیہ کو حکم دیا کہ آمر کے غیر قانونی حکم کی تعمیل نہ کی جائے۔
تاہم فوجی آمر کے کارندوں نے خبر دی کہ چیف جسٹس کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی۔ مبصرین نے اس فوجی اقدام کو عدلیہ کے خلاف بغاوت قرار دیا ۔عدالت عظمی کا ایک گیارہ رکنی محکمہ منصف جناب جاوید اقبال کی سربراہی میں پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب پر چند دنوں میں فیصلہ سنانے والا تھا اور اس بات کا قوّی امکان تھا کہ فیصلہ جنرل مشرف کے خلاف ہو گا۔اس کے علاوہ امریکہ کی شہ پر مشرف کی طرف سے بینظیر بھٹو کو عام معافی دینے کے حکم پر بھی عدالت عظمی نظر ثانی کر رہی تھی، جس سے بینظیر کو اقتدار میں شریک کرنے کا امریکی منصوبہ کھٹائی میں پڑ سکتا تھا۔
عدالت عظمی غیرقانونی طور پر "دہشت گردی" کے شبہ میں خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں لیے گئے افراد کو رہائی دلانے کے لیے بھی حکومتی اداروں کو آڑے ہاتھوں لے رہی تھی، جو کہ دہشت پر جنگ میں مشغول مغربی حکومتوں کو ناپسند تھا۔ اس لیے مبصرین نے خیال ظاہر کیاکہ عدلیہ کے خلاف اس کاروائی میں مشرف کو خفیہ طور امریکی آشیرباد حاصل تھی۔مشرف نے اپنی تقریر میں عدلیہ کو بھونڈے انداز میں نشانہ بنایا اور شکوہ کیا کہ کچھ ججز ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہے تھے اور "دہشت گردوں" کو رہائی دلوا رہے تھے
4 نومبر کو اتوار کا دن گزرنے کے بعد پیر کے دن یعنی 5 نومبر کو ملک میں وکلاء کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ لاہور ، کراچی ہائی کورٹ میں پولیس کے ساتھ تصادم میں کئی وکلا زخمی ہوئے۔ اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا پر پابندی بدستور برقرار رہی اور تمام پرائیوٹ چینلز کی نشریات کو اس دن بھی روک دیا گیا۔ اس دن مشرف کی نظر بندی کی افواہ نے بھی زور پکڑا اور میڈیا پر بندش کیوجہ سے اس افواہ نے چند گھنٹوں میں پورے پاکستان کو لپیٹ میں لے لیا۔
کئی سیاسی لیڈروں کو نظر بند کر دیا گیا لیکن پیپلز پارٹی کا کوئی بھی لیڈر گرفتار نہیں ہوا۔ اور نہ ہی ان کے ورکرز نے اس سلسلے میں کسی قسم کا احتجاج کیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اس معاملے میں عوام کو سڑکوں پرلانے میں ناکام رہی۔ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں کو اپنے گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر ایمرجنسی کی شدید مذ مت کی گئی۔ پاکستان کا کراچی سٹاک ایکسچینج ریکاڈ مندی کا شکار رہا۔ اور مارکیٹ چھ سو پینتس پوائنٹ کی کمی کے ساتھ بند ہوئی۔
اگرچہ "ہنگامی حالت" کا مقصد عدالت عظمی کو خاموش اورجنرل مشرف کے تابع کرنا تھا، مگر مغربی ممالک کے ردعمل میں اعلی عدالتوں کے منصفین کو بجال کرنے کا مطالبہ نہیں ملتا۔ تجزیہ نگاروں نے اس معنی خیز رویے کو خاص طور پر محسوس کیا۔مغربی ممالک کا مطالبہ "ہنگامی حالت" کو ختم کرنے اور نئی قومی اسمبلی کے انتخابات کرانے تک محدود رہا ۔
احتجاج کی قیادت وکلاء کے پاس ہے۔ جامعات کے طلباء نے بھی مظاہروں میں حصہ لیا۔ بینظیر بھٹو نےراولپنڈی میں احتجاجی جلسہ اور "long march" کی دھمکی دی۔ اس سے پہلے بینظیر نے اسلام آباد میں امریکی سفیر سے ملاقات کی۔ مبصرین کے نزدیک اس کا مقصد حکومت سے اچھی سودے بازی کرنا تھا۔
ہوا کا رُخ دیکھتے ہوئے بینظیر نے 10 نومبر کو پہلی دفعہ عدالت عظمی کے منصفین کو بجال کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے پہلے وہ بحران کی اصل وجہ پر بات کرنے سے گریزاں تھی، اور یہی حال امریکی اور برطانوی حکومتوں کا تھا۔ بینظیر نے جناب افتخار چودھری سے ملاقات کی ناکام کوشش بھی کی۔
8 نومبر 2007ء کو متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کا سربراہی اجلاس منصورہ، لاہور، میں پولیس کی مداخلت کی وجہ سے نہیں ہو سکا، جس پر قاضی حسین احمد نے احتجاج کا بیان دیا ۔
عدالت عظمی کے جن منصفین نے آمر کے "عبوری حکم" کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا، ان سے برا سلوک کرنے کی اطلاعات تھیں۔اس کے علاوہ گرفتار شدہ وکلاء پر تشدد کی خبریں تھیں۔
ہنگامی حالت کی آڑ لیتے ہوئے "آرمی ایکٹ" میں ترمیم کی گئ جس کے تحت عوام پر بھی فوجی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا دی جا سکے گی۔
11 نومبر کو پرویز مشرف نے اخبار نویسوں سے بات چیت جرتے ہوئے عدلیہ اورچیف جسٹس پر الزامات لگائے، اور اگلے انتخابات "ہنگامی حالت" کے زیرسایہ کرانے کا عندیہ دیا۔ جناب افتخار چودھری نے مشرف کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے خلاف کاروائی کا ایک مقصد انتخابات میں دھاندلی کے زریعے اپنے من پسند امیدواروں کا کامیاب کروانا تھا۔
14 نومبر کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جامعہ پنجاب پہنچے جہاں انھوں نے فوجی آمر کی حرکات کے خلاف طلبا کے جلوس کی قیادت کرنے کے بعد کھلے عام گرفتاری دینا تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں نے جامعہ میں عمران سے بدتمیزی کی، اور انھیں حبسِ بیجا میں رکھا اور بعدازاں پولیس نے عمران خان کو گرفتار کر لیا۔ اسلامی جمعیت طلباء طے شدہ حکمت عملی کے تحت پولیس سے مل کر تحریک انصاف کے جلوس کو ناکام بنانے 
[

_________________
"O son of Adam if you have collected anything in excess of your actual need you will act only as its trustee for someone else to use it.""(Imam Ali(a.s))"
Tue Dec 11, 2007 10:37 pm View user's profile Send private message Visit poster's website Yahoo Messenger MSN Messenger
askari.z55
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007
Posts: 1730
Location: UAE

Reply with quote
14 نومبر کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جامعہ پنجاب پہنچے جہاں انھوں نے فوجی آمر کی حرکات کے خلاف طلبا کے جلوس کی قیادت کرنے کے بعد کھلے عام گرفتاری دینا تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں نے جامعہ میں عمران سے بدتمیزی کی، اور انھیں حبسِ بیجا میں رکھا اور بعدازاں پولیس نے عمران خان کو گرفتار کر لیا۔ اسلامی جمعیت طلباء طے شدہ حکمت عملی کے تحت پولیس سے مل کر تحریک انصاف کے جلوس کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں تھی۔
15 نومبر کو قومی assembly اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہو گئی۔ اس ادارے کی سیاہ کاریوں میں متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے سترھویں ترمیم منظوری، اور اپنے آخری دنوں میں مسلم لیگ ق کی اکثریت سے فوجی تاراج کی تائید شامل تھے۔
19 نومبر کو جنرل مشرف کے ہاتھ سے چنے ہوئے ججز نے عدالت عظمی کی عمارت میں بیٹھ کر پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات پر اعتراضات باہر پھینک دیے۔ جید وکلا جیل میں ہونے اور عدالت کو تسلیم نہ کرنے کے باعث پیش نہیں ہوئے۔ مخالف وکلا کو عبدالحمید ڈوگر نے برا بھلا کہا اور جیل میں ڈال دینے کی دھمکی دی۔
جنرل مشرف نے 21 نومبر کو حکم جاری کیا کہ اس کے 3 نومبر کے بعد کے تمام احکام کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ مبصرین نے اس کے پیچھے محرک کو انجانے مستقبل کا خوف قرار دیا
25 نومبر کو اعلان کیا گیا کہ جنرل پرویز مشرف 29 نومبر کو وردی اتاردیں گے۔ 27 نومبر کوفوجی آمر نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور بالاخر انسان سے آمر تک کا سفر مکمل ہوا۔


_________________
"O son of Adam if you have collected anything in excess of your actual need you will act only as its trustee for someone else to use it.""(Imam Ali(a.s))"
Tue Dec 11, 2007 10:41 pm View user's profile Send private message Visit poster's website Yahoo Messenger MSN Messenger
@nline
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 12 Jul 2007
Posts: 1833

Reply with quote
Excellent!
Wed Dec 12, 2007 1:04 am View user's profile Send private message
saeedur
Pak Newbie


Joined: 09 Sep 2007
Posts: 8

Reply with quote
poodle of bush i mean mush is a big liar.he thinks that he is the best but he is doing all bullshit...!
Sat Dec 15, 2007 4:51 am View user's profile Send private message
ahmarbokhari
Pak Newbie


Joined: 19 Nov 2007
Posts: 6

masharraf-dictator Reply with quote
I think he always was and is and will be a dictator. I am surprised by the people even in minority support him.This shows our lack of development as civilised nation. Army generals have told the people that might is right and thats what nation tries to do
Sat Dec 15, 2007 8:31 pm View user's profile Send private message
Display posts from previous:    
Reply to topic    Forum Pakistan - Pakistani Forums Home » Pakistani News and Events All times are GMT + 5 Hours
Page 1 of 1

 
Gupshup Forum: Urdu ForumIslam ForumPakistan Army ForumAap Ka SheharNaukaryPakistani Visa
Desi Sports and News: Live CricketSports ForumAkhbar OnlinePakistan EventsWorld News Discussion
Entertainment Media: PTV ForumGEO ForumLollywood ForumBollywood OnlineHollywood ForumDesi Radio
Desi Masala Forums: Gupshup Chit ChatComputer GamesMusic ForumDrama ForumsGhazal ForumDesi FashionDesi Food
Official Forums (Government Department): Dak Khana ChatPolice ForumWapda OnlinePTCL ForumUfone ForumRailway ForumSehat Chit ChatTaleem OnlineTax Forum PKZameen ForumAdalat Forum


Pure Pakistani forum to express your views, thoughts with complete freedom. Archives 1 2

Copyright © ForumPakistan.com.pk 2017 All rights reserved.

Contact Us | Advertise | Report Abuse | FP Team | Disclaimer